چنچل متوالی راتوں میں، مَیں یاد آؤں گا
بن بادل کی برساتوں میں، مَیں یاد آؤں گابھیگی شامیں، ٹھنڈی راتیں اور ناداں سوچیں
وصل کی ساری سوغاتوں میں، مَیں یاد آؤں گاپہلے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹیں گے اور پھر
کِن مِن کِن مِن برساتوں میں، مَیں یاد آؤں گارنگِ حنا چمکے گا جب اِن ریشمی ہاتھوں میں
دیکھنا تب تم اِن ہاتھوں میں، مَیں یاد آؤں گا

پت جھڑ کا ساون جب تم سے ملنے آئے گا
تنہائی کے جگراتوں میں، مَیں یاد آؤں گا

محمد بلال اعظم

Share: