بوجھل سی طبیعت ہے، کوئی کام نہیں ہے
وہ زہرہ جبیں آج سرِ بام نہیں ہےحیرت سے مجھے تکتے ہیں کیوں میرِ سرِ دار؟
حصے میں مرے کیا کوئی دشنام نہیں ہےہر رات یہ آتے ہیں چراغوں کو بجھانے
کیا شہر کے لوگوں کو کوئی کام نہیں ہےپھرتے تھے جو ساقی بنے ہر بزم میں تیری
ہونٹوں پہ اب اُن کے بھی کوئی جام نہیں ہےبے چین طبیعت ہے محبت کے سبب سے
گھر ہو یا قفس ہو، مجھے آرام نہیں ہےیہ شامِ تلطّف ہے بلالؔ اُس کے کرم سے
جو حُسن میں یکتا ہے مگر عام نہیں ہے

محمد بلال اعظم

Share: