ایک جگنو ہے کہ منزل کے حوالے مانگے
ایک تتلی ہے کہ جگنو سے اجالے مانگےایک وہ حشر جو دل میں بپا رہتا ہے
اور اک دل ہے، زباں پر بھی جو تالے مانگےمیری تصویر کے سب رنگ زوال آمادہ
اور مرا یار کہ شہکار نرالے مانگےآخرش دربدری قیس کی اب ختم ہوئی
آج تو لیلیٰ نے بھی دیس نکالے مانگےرسم کچھ ایسی چلی موسمِ گُل میں کہ یہاں
سب نے مانگے بھی تو بس خون کے پیالے مانگےجانے کس دور میں دھرتی پہ میں اترا ہوں بلالؔ
زندہ رہنے کے بھی انسان حوالے مانگے

محمد بلال اعظم

Share: