اب ہے تعبیر کے دھوکے میں سرابوں کا سفر
اب مرے پاس مرے خواب کہاں رہتے ہیںہاں اِسی شہر میں بہتا ہے فُراتِ وحشت
ہاں اِسی شہر میں کچھ تشنہ لباں رہتے ہیںحبسِ زندانِ تحیر یہ گواہی دے گا
جو زمیں پر نہیں رہتے، وہ یہاں رہتے ہیںاب کہاں کھینچتی ہے غازۂ خونیں کی کشش
اب یہاں کون سرِ نوکِ سناں رہتے ہیںہم سفر خوابِ رفاقت کا رہا جو برسوں
اب کئی زخم مرے اُس سے نہاں رہتے ہیںیہ بھی آشوبِ تمنا ہے کہ کچھ اشک بلالؔ
شعر کہتا ہوں تو آنکھوں سے رواں رہتے ہیں

محمد بلال اعظم

Share: