آؤ روٹھے ہوئے لوگوں کو منائیں ہم بھی
دہر میں دیپ محبت کے جلائیں ہم بھیہاں کسی روز بنیں اپنی ہی راہوں کا غبار
ہاں کسی روز سنیں اپنی صدائیں ہم بھیخود ہمیں کو نہ رہے یاد، پھر اس دنیا میں
کیا تعجب کہ تجھے بھول نہ جائیں ہم بھیاب کئی روز ہوئے، کھیل تماشا ہوا ختم
آؤ اب دیپ وفاؤں کے جلائیں ہم بھیہو کوئی شعر غزل کا کہ رباعی کوئی
اب اگر آ ہی گئے ہیں تو سنائیں ہم بھی

محمد بلال اعظم

Share: