آج موسم بھی عجب موسم ہے
تیری فرقت کا سبب موسم ہے
 
ہے تکلم بھی زمانوں پہ محیط
اور تری جنبشِ لب موسم ہے
 
اب تو وحشت کو قرار آ جائے
داورا! نوحہ بہ لب موسم ہے
 
جب سے اتری ہے خموشی مجھ میں
تب سے محرومِ طرب موسم ہے

محمد بلال اعظم

Share: