اب تو ہر سمت فرشتے نظر آتے ہیں مجھے
کیا مرے دیس میں بستا کوئی انسان بھی ہے!مجھ کو صحرا کا گماں ہوتا ہے جس گھر پر، وہی
میرے ماں باپ کے ہونے سے گلستان بھی ہےایک تو چاند فلک پر نہیں آیا جاناں
اور پھر آج ہی خالی مرا دالان بھی ہےاے رفو گر! ترے اِس فعل پہ حیرت ہے مجھے
صرف دامن پہ رفو! چاک گریبان بھی ہےآج اِس گھر کے نئے طرزِ حکومت سے بلالؔ
میں بھی افسردہ ہوں، خائف مرا مہمان بھی ہے

محمد بلال اعظم

Share: