“دل گرفتہ ہی سہی، بزم سجا لی جائے”
کوئی تدبیر کرو، عید منا لی جائےرسمِ احساسِ محبت کا تقاضا ہے یہی
آج پھر درد کی قندیل جلا لی جائےدشمنِ جاں سے ملاقات بھی کرنی ہے ضرور
یارو سوچو کہ کوئی راہ نکالی جائےکس کا نیلام ہو پھر شہرِ ہوس میں امشب
کس کی عزت سرِ بازار اچھالی جائےآؤ اجڑے ہوئے شہروں سے نکل کر دیکھیں
آؤ سر سبز فضاؤں کی ہوا لی جائےایسے ماحول میں گھٹ گھٹ کے نہ مر جائیں ہم
کوئی تدبیر کرو، شہر کا والی جائےرب کے ہاں دیر ہے، اندھیر نہیں اے لوگو
اب تو ان شاہوں کی یہ خام خیالی جائے

٭نذرِ احمد فراز

محمد بلال اعظم

Share: