دیکھنےسے ڈرتا ہوں*
اُن حسین آنکھوں میں
جن میں زیست پلتی تھی
جن میں خواب رہتے تھے
جن میں دل دھڑکتا تھا
دھڑ کنوں سے روز و شب
ہم بھی خواب بُنتے تھے
زندگی نبھانے کے
خواب ساتھ رہنے کے
خواب! ساتھ دینے کے
 
دیکھنےسے ڈرتا ہوں
اُن حسین آنکھوں میں
جن کو نظم کرتا تھا
جن پہ شعر کہتا تھا
جن سے صبح ہوتی تھی
جن میں رات کٹتی تھی
زیست سانس لیتی تھی
جن میں دل دھڑکتا تھا
دل پہ نام لکھا تھا
میرا نام تھا شاید!
یعنی! یعنی لا یعنی
 
آج کا ہی قصہ ہے
آج بھی میں گزرا تھا
اُس درِ تحیر سے
جس درِ تحیر سے
حیرتیں پلٹ آئیں
ساعتیں بھی رک جائیں
سانس بھی ٹھہر جائے
 
آج بھی میں بیٹھا تھا
اُس کتاب خانے میں
جس کتاب خانے میں
حیرتوں کے شیشے پر
زندگی، طبیعاتی
کشمکش میں الجھی تھی
 
آج وہ فضائیں بھی
کس قدر معطر تھیں!
آج اُن فضاؤں کو
تُو نے اذن بخشا تھا
اپنی میزبانی کا
اور میں کم سخن شاید
اپنی بد نصیبی پر
صبر کرکے آیا تھا
ضبط کر کے بیٹھا تھا
جتنا ضبط کرتا تھا
اُتنا ٹوٹ جاتا تھا
 
دیکھنے سے ڈرتا تھا
اُن حسین آنکھوں میں
جن کو نظم کرتا تھا
جن پہ شعر کہتا تھا
 
آج میں نے دیکھا تھا
آج اداس لگتی تھی
راہ گزر محبت کی
آج حبس طاری تھا
 اُس کتاب خانے میں
خستگی کا عالم تھا
میں شکست خوردہ شخص
کائناتی غم لے کر
اک مہین ڈوری کے
آسرے پہ بیٹھا تھا
خامشی سے بیٹھا تھا
 
آج میں بچشمِ نم
اعتراف کرتا ہوں
دیکھنےسے ڈرتا ہوں
اُن حسین آنکھوں میں
جن کو نظم کرتا تھا
جن پہ شعر کہتا تھا

٭مجید امجد لائبریری، گورنمنٹ کالج ساہیوال میں

محمد بلال اعظم

Share: